“To my liver does blood-quaffing Love address this petition: 'May my lord, the bestower of bounties, long remain safe!'”
خون پینے والا عشق میرے جگر کو اپنا محسن اور رزق دینے والا آقا قرار دیتے ہوئے اس کی سلامتی کی دعا لکھتا ہے۔
غالب نے اس شعر میں کمال کی شوخی اور ندرتِ خیال کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ عشق کو ایک ایسے درباری یا سائل کے طور پر دکھاتے ہیں جس کی پیاس جگر کے خون سے بجھتی ہے، اور جگر اس کا فیاض سرپرست یعنی ’خداوندِ نعمت‘ ہے۔ عشق نہایت ادب سے جگر کی لمبی عمر کی دعا مانگتا ہے تاکہ اس کی عیاشی اور خون پینے کا یہ سلسلہ کبھی بند نہ ہو۔ الم اور سوزِ دروں کو یوں شگفتہ انداز میں بیان کرنا صرف غالب ہی کے بس کی بات ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
