“Draw the line of oblivion across the existence of both worlds; long live the heart and hand of the masters of courage!”
دونوں جہانوں کے وجود پر فنا کا خط کھینچ دو، بس باہمت اور سخی لوگوں کا دل اور ہاتھ سلامت رہے۔
اس شعر میں بے نیازی، غیرت اور بلند ہمتی کا ایک شاندار اظہار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دونوں جہانوں کی ہستی پر فنا کی لکیر پھیر دو اور دنیا و آخرت کے نفع و نقصان سے آزاد ہو جاؤ۔ اصل قدر و منزلت تو صرف ان بہادر اور سخی لوگوں کے دل اور ہاتھ کی ہے جو اپنے دم پر جیتے ہیں اور کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کرتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
