“Must the wretched Ghalib remain forever crushed beneath the skies of fate? What cold indifference is this, O Lord, long may Your glory reign!”
کیا خستہ حال غالب ہمیشہ گردشِ فلک اور زمانے سے مغلوب ہی رہے؟ اے حضور، یہ آپ کی کیسی بے نیازی اور بے پرواہی ہے؟
اس شعر میں غالب نے نہایت شوخ اور بے تکلفانہ انداز میں گردشِ دوراں کے ستائے ہوئے بندے کی فریاد کو پیش کیا ہے۔ وہ گردشِ فلک کے ہاتھوں کچلے جا رہے ہیں اور پھر خدا یا اپنے محبوب کو 'حضرت سلامت' کہہ کر شکوہ بھی کر رہے ہیں۔ اس کلام کا حسن اس ادائے دلبرانہ میں ہے جہاں عاجزی اور طنز مل کر یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کی اس قدر بے نیازی کا سبب آخر کیا ہے؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
