“Even if one stays safe and sound until the Day of Doom, / Still, one day, my good sir, one must surrender to the tomb.”
اگر کوئی قیامت تک بھی صحیح سلامت بچا رہے، تب بھی اے محترم، آخرکار ایک دن مرنا ہی ہے۔
شاعر یہاں بڑے لطیف اور میٹھے طنز کے ساتھ انسانی بقا کے فریب پر چوٹ کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہر آفت سے بچ کر قیامت کے دن تک بھی زندہ رہ لے، تب بھی موت کا دامن جھٹکنا ناممکن ہے۔ ’حضرت سلامت‘ کا شائستہ انداز دراصل انسان کے اس غرور کو توڑتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گا، اور یاد دلاتا ہے کہ بالآخر سب کو فنا کے روبرو ہونا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
