غزل
عہدے سے مدحِ ناز کے باہر نہ آ سکا
عہدے سے مدحِ ناز کے باہر نہ آ سکا
یہ غزل محبوب کے حسن و ادا کی بے پناہ تعریف اور اسیرانہ کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنی محبوب کی تعریف کے عہدے سے باہر نہیں آ پاتا، گویا ان کی ہر ادا اتنی دلکش ہے کہ اسے اپنی تقدیر سمجھتا ہے۔ محبوب کی کھلی آنکھیں دل کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، اور ان کی زلف کا ہر تار کاجل بھری نگاہ کی طرح مسحور کن ہے، جو محبوب کی لازوال خوبصورتی اور اس کے گہرے اثر کو اجاگر کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
'ओहदे से मद्ह-ए-नाज़ के बाहर न आ सका
गर इक अदा हो तो उसे अपनी क़ज़ा कहूँ
میں آپ کی نازک اداؤں کی تعریف سے باہر نہیں آ سکا۔ اگر یہ صرف ایک ادا ہوتی، تو میں اسے اپنی قسمت کہہ دیتا۔
2
हल्क़े हैं चश्म-हा-ए-कुशादा ब-सू-ए-दिल
हर तार-ए-ज़ुल्फ़ को निगह-ए-सुर्मा-सा कहूँ
کھلی آنکھیں دل کی طرف حلقے ہیں۔ کیا میں ہر زلف کے تار کو سرمہ جیسی نگاہ کہوں؟
3
मैं और सद-हज़ार नवा-ए-जिगर-ख़राश
तू और एक वो न-शुनीदन कि क्या कहूँ
میں ہوں اور میرے لاکھوں دل چیرنے والے نوحے ہیں، تو ہے اور تیری وہ ایک نہ سننے کی عادت ہے، کہ میں کیا کہوں۔
4
ज़ालिम मिरे गुमाँ से मुझे मुन्फ़'इल न चाह
है है ख़ुदा-न-कर्दा तुझे बेवफ़ा कहूँ
اے ظالم، میرے گمان سے مجھے شرمندہ نہ کر۔ ہائے، خدا نہ کرے کہ میں تجھے بے وفا کہوں۔
5
आँसू कहूँ कि आह सवार-ए-हवा कहूँ
ऐसा 'इनाँ-गुसीख़्ता आया कि क्या कहूँ
کیا میں اسے آنسو کہوں یا ہوا پر سوار آہ؟ یہ اتنی بے قابو ہو کر آئی کہ میں کیا کہوں۔
6
इक़बाल-ए-कुल्फ़त-ए-दिल-ए-बे-मुद्द'आ रस्सा
अख़्तर को दाग़-ए-साया-ए-बाल-ए-हुमा कहूँ
بے مقصد دل کی تکلیف کا قائم کردہ فخر؛ کیا میں تقدیر کو ہما کے پر کے سائے کا داغ کہوں؟
7
मज़मून-ए-वस्ल हाथ न आया मगर उसे
अब ताइर-ए-पर-बुरीदा-ए-रंग-ए-हिना कहूँ
وصال کا موضوع ہاتھ نہ آیا لیکن اب اسے کیا کہوں؟ مہندی کے رنگ میں رنگے ہوئے پر کٹے پرندے کی طرح۔
8
दुज़्दीदन-ए-दिल-ए-सितम-आमादा है मुहाल
मिज़्गाँ कहूँ कि जौहर-ए-तेग़-ए-क़ज़ा कहूँ
ستم آماہ دل کو چُرانا محال ہے۔ میں انہیں مژگاں کہوں یا تیغِ قضا کا جوہر کہوں؟
9
तर्ज़-आफ़रीन-ए-नुक्ता-सराई-ए-तब' है
आईना-ए-ख़याल को तूती-नुमा कहूँ
یہ عقل کی باریک باتوں کو بیان کرنے کے انداز کا خالق ہے۔ کیا میں خیال کے آئینے کو طوطے جیسا کہوں؟
10
'ग़ालिब' है रुत्बा-फ़हम-ए-तसव्वुर से कुछ परे
है इज्ज़-ए-बंदगी कि 'अली को ख़ुदा कहूँ
غالب (میں) مرتبے کے ادراک سے کچھ پرے ہوں۔ یہ میری بندگی کی بے بسی ہے کہ میں علی کو خدا کہوں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
