“It is the originator of the witty style of my nature's speech,How can I call the mirror of my thoughts parrot-like?”
یہ عقل کی باریک باتوں کو بیان کرنے کے انداز کا خالق ہے۔ کیا میں خیال کے آئینے کو طوطے جیسا کہوں؟
اس شعر میں غالبؔ کہتے ہیں کہ میری طبیعت، میرا تخلیقی مزاج، نکتہ آفرینی اور نئے انداز ایجاد کرنے والا ہے۔ میرے خیال کا آئینہ (آئینہ خیال) ایسی اصلی اور انوکھی باتیں دکھاتا ہے، جو کہیں اور نہیں ملتیں۔ تو پھر میں اپنے ایسے شاندار اور منفرد تصورات کو طوطی نما، یعنی صرف رٹائی ہوئی باتوں جیسا کیسے کہہ سکتا ہوں؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
