“I couldn't escape the task of praising her grace; If there were just one charm, I would call it my destiny.”
میں آپ کی نازک اداؤں کی تعریف سے باہر نہیں آ سکا۔ اگر یہ صرف ایک ادا ہوتی، تو میں اسے اپنی قسمت کہہ دیتا۔
اس شعر میں شاعر اپنی محبوبہ کی اداؤں اور ناز و انداز کی تعریف میں اس قدر مبتلا ہے کہ وہ کبھی اس عہدے سے باہر نکل ہی نہیں پاتا۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کی ہر ادا اتنی دلکش ہے، گویا وہ ہمیشہ اُسی کی تعریف میں مصروف رہنے کے لیے مقرر کر دیا گیا ہو۔ کاش اُس کی صرف ایک ہی ایسی ادا ہوتی، جسے دیکھ کر وہ اپنی قضا یعنی اپنا مقدر یا اپنی تباہی کا سبب کہہ پاتا، لیکن یہاں تو اُس کی بے شمار ادائیں ہیں جو اُسے ہر پل گھیرے رہتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
