Sukhan AI
'ओहदे से मद्ह-ए-नाज़ के बाहर सका गर इक अदा हो तो उसे अपनी क़ज़ा कहूँ

I couldn't escape the task of praising her grace; If there were just one charm, I would call it my destiny.

مرزا غالب
معنی

میں آپ کی نازک اداؤں کی تعریف سے باہر نہیں آ سکا۔ اگر یہ صرف ایک ادا ہوتی، تو میں اسے اپنی قسمت کہہ دیتا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنی محبوبہ کی اداؤں اور ناز و انداز کی تعریف میں اس قدر مبتلا ہے کہ وہ کبھی اس عہدے سے باہر نکل ہی نہیں پاتا۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کی ہر ادا اتنی دلکش ہے، گویا وہ ہمیشہ اُسی کی تعریف میں مصروف رہنے کے لیے مقرر کر دیا گیا ہو۔ کاش اُس کی صرف ایک ہی ایسی ادا ہوتی، جسے دیکھ کر وہ اپنی قضا یعنی اپنا مقدر یا اپنی تباہی کا سبب کہہ پاتا، لیکن یہاں تو اُس کی بے شمار ادائیں ہیں جو اُسے ہر پل گھیرے رہتی ہیں۔

مشکل الفاظ
ओहदेPosition, rank, status, office
मद्ह-ए-नाज़Praise of coquetry/grace, eulogy of pride or elegant manner
अदाGrace, mannerism, style, (here: a specific act or expression of grace/coquetry)
क़ज़ाFate, destiny, divine decree, death (in this context: my doom or inescapable destiny)

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

1 / 10Next →