आँसू कहूँ कि आह सवार-ए-हवा कहूँ
ऐसा 'इनाँ-गुसीख़्ता आया कि क्या कहूँ
“Shall I call it a tear, or a sigh riding on the wind?It came so unbridled, what indeed can I say?”
— مرزا غالب
معنی
کیا میں اسے آنسو کہوں یا ہوا پر سوار آہ؟ یہ اتنی بے قابو ہو کر آئی کہ میں کیا کہوں۔
تشریح
یار، یہ شعر اُس کیفیت کو بیان کرتا ہے جب دل میں کوئی احساس اتنا شدت اختیار کر لے کہ سمجھ نہ آئے اسے کیا نام دیا جائے۔ شاعر پوچھتا ہے، "کیا اِسے آنسو کہوں یا ہوا پر سوار کوئی آہ؟" وہ بتاتا ہے کہ یہ جذبہ اس طرح بے قابو ہو کر آیا ہے جیسے کسی گھوڑے کی لگام ٹوٹ جائے، بالکل لگام گسیختہ۔ یہ ایک ایسی زبردست اور اچانک لہر ہے جو انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
مشکل الفاظ
'इनाँ-गुसीख़्ता— With snapped reins, unbridled, out of control, runaway
सवार-ए-हवा— Rider of the wind, something that passes swiftly, fleeting, ephemeral
आह— A deep sigh (of pain or sorrow), lament, groan, an expression of suffering
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
