“Shall I call it a tear, or a sigh riding on the wind?It came so unbridled, what indeed can I say?”
کیا میں اسے آنسو کہوں یا ہوا پر سوار آہ؟ یہ اتنی بے قابو ہو کر آئی کہ میں کیا کہوں۔
یار، یہ شعر اُس کیفیت کو بیان کرتا ہے جب دل میں کوئی احساس اتنا شدت اختیار کر لے کہ سمجھ نہ آئے اسے کیا نام دیا جائے۔ شاعر پوچھتا ہے، "کیا اِسے آنسو کہوں یا ہوا پر سوار کوئی آہ؟" وہ بتاتا ہے کہ یہ جذبہ اس طرح بے قابو ہو کر آیا ہے جیسے کسی گھوڑے کی لگام ٹوٹ جائے، بالکل لگام گسیختہ۔ یہ ایک ایسی زبردست اور اچانک لہر ہے جو انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
