“I, and a hundred thousand heart-rending cries;You, and that single refusal to hear, what can I say?”
میں ہوں اور میرے لاکھوں دل چیرنے والے نوحے ہیں، تو ہے اور تیری وہ ایک نہ سننے کی عادت ہے، کہ میں کیا کہوں۔
ارے دوست، اس شعر میں شاعر اپنا گہرا درد بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرے اندر تو ہزاروں دل چیر دینے والی آوازیں، درد بھری پکاریں بھری ہوئی ہیں۔ اور تم ہو کہ بس ایک بار بھی سننے کو تیار نہیں! اس بے رخی پر میں کیا کہوں، میرے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ یہ یک طرفہ محبت کی انتہائی بے بسی اور محبوب کی بے پناہ بے رخی کا دل دہلا دینے والا منظر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
