मैं और सद-हज़ार नवा-ए-जिगर-ख़राश
तू और एक वो न-शुनीदन कि क्या कहूँ
“I, and a hundred thousand heart-rending cries;You, and that single refusal to hear, what can I say?”
— مرزا غالب
معنی
میں ہوں اور میرے لاکھوں دل چیرنے والے نوحے ہیں، تو ہے اور تیری وہ ایک نہ سننے کی عادت ہے، کہ میں کیا کہوں۔
تشریح
ارے دوست، اس شعر میں شاعر اپنا گہرا درد بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرے اندر تو ہزاروں دل چیر دینے والی آوازیں، درد بھری پکاریں بھری ہوئی ہیں۔ اور تم ہو کہ بس ایک بار بھی سننے کو تیار نہیں! اس بے رخی پر میں کیا کہوں، میرے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ یہ یک طرفہ محبت کی انتہائی بے بسی اور محبوب کی بے پناہ بے رخی کا دل دہلا دینے والا منظر ہے۔
مشکل الفاظ
सद-हज़ार— A hundred thousand, hundreds of thousands, countless
नवा— Sound, voice, melody, song, cry, lament
जिगर-ख़राश— Heart-rending, agonizing, deeply painful, poignant
न-शुनीदन— That which is unheard, unheard of, not to be heard, inaudible
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
