غزل

لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر

لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
مرزا غالب· Ghazal· 10 shers· radif: पर

یہ غزل گہری حساسیت اور شدید رنج و غم کا احساس دلاتی ہے، جس میں شاعر اپنے دل کو دنیا کی سختیوں سے آسانی سے متاثر ہونے والے کانپتے ہوئے شبنم کے قطرے سے تشبیہ دیتا ہے۔ یہ یوسف کے لیے یعقوب کے دکھ کا حوالہ دیتے ہوئے جدائی کے دیرپا کرب کو بیان کرتی ہے، اور مجنوں جیسی ایک لازوال، ہمہ گیر محبت کا اظہار کرتی ہے جو خود فراموشی کی طرف لے جاتی ہے۔ بالآخر، یہ مصیبت کی گہری قبولیت کی تجویز پیش کرتی ہے، جہاں ایک ٹوٹا ہوا دل بھی اپنے درد میں ایک عجیب سکون پاتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
लरज़ता है मिरा दिल ज़हमत-ए-मेहर-ए-दरख़्शाँ पर मैं हूँ वो क़तरा-ए-शबनम कि हो ख़ार-ए-बयाबाँ पर
لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
میرا دل چمکتے سورج کی مشقت یا تپش سے لرزتا ہے۔ میں شبنم کا وہ قطرہ ہوں جو بیابان کے کانٹے پر ٹھہرا ہو۔
2
न छोड़ी हज़रत-ए-यूसुफ़ ने याँ भी ख़ाना-आराई सफ़ेदी दीदा-ए-याक़ूब की फिरती है ज़िंदाँ पर
نہ چھوڑی حضرت یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
حضرت یوسف نے قید خانے میں بھی اپنی دلکش شخصیت یا اثر کو نہیں چھوڑا۔ حضرت یعقوب کی آنکھوں کی سفیدی (شدید غم کی وجہ سے) اس قید خانے پر پھرتی ہے، گویا انہیں تلاش کر رہی ہو۔
3
फ़ना तालीम-ए-दर्स-ए-बे-ख़ुदी हूँ उस ज़माने से कि मजनूँ लाम अलिफ़ लिखता था दीवार-ए-दबिस्ताँ पर
فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سے کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پر
شاعر کہتا ہے کہ وہ بے خودی کی تعلیم کا مظہر ہے، اس قدیم زمانے سے جب مجنوں مدرسے کی دیوار پر 'لام الف' لکھنا سیکھ رہا تھا۔ یہ عشق یا روحانی جذب کی ایک انتہائی گہری اور لازوال کیفیت کو نمایاں کرتا ہے۔
4
फ़राग़त किस क़दर रहती मुझे तश्वीश-ए-मरहम से बहम गर सुल्ह करते पारा-हा-ए-दिल नमक-दाँ पर
فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمکداں پر
مجھے مرہم کی تشویش سے کتنی فراغت ملتی، اگر میرے دل کے ٹکڑے نمک دان سے صلح کر لیتے۔
5
नहीं इक़लीम-ए-उल्फ़त में कोई तूमार-ए-नाज़ ऐसा कि पुश्त-ए-चश्म से जिस की न होवे मोहर उनवाँ पर
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایسا کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
عشق کی اقلیم میں ناز کا کوئی ایسا طومار (دستاویز) نہیں ہے، جس کے عنوان پر نگاہِ بے رخی (بے توجہی) سے مہر نہ لگائی گئی ہو۔
6
मुझे अब देख कर अबर-ए-शफ़क़-आलूदा याद आया कि फ़ुर्क़त में तिरी आतिश बरसती थी गुलिस्ताँ पर
مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
مجھے اب شفق کے رنگ میں رنگے بادل کو دیکھ کر یاد آیا کہ تیری فرقت میں باغ پر آگ برستی تھی۔
7
ब-जुज़ परवाज़-ए-शौक़-ए-नाज़ क्या बाक़ी रहा होगा क़यामत इक हवा-ए-तुंद है ख़ाक-ए-शहीदाँ पर
بجز پرواز شوق ناز کیا باقی رہا ہوگا قیامت اک ہوائے تند ہے خاک شہیداں پر
بجز فخر مند آرزو کی پرواز کے، اور کیا باقی رہا ہوگا؟ قیامت شہداء کی خاک پر محض ایک تیز ہوا ہے۔
8
न लड़ नासेह से 'ग़ालिब' क्या हुआ गर उस ने शिद्दत की हमारा भी तो आख़िर ज़ोर चलता है गरेबाँ पर
نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
غالب، ناصح سے مت جھگڑو، کیا ہوا اگر اس نے سختی کی؟ آخر ہمارا بھی تو اپنے گریبان پر زور چلتا ہے (یعنی ہم اپنی پریشانی میں خود اپنا گریبان چاک کر سکتے ہیں)۔
9
दिल-ए-ख़ूनीं-जिगर बे-सब्र-ओ-फ़ैज़-ए-इश्क़-ए-मुस्तग़नी इलाही यक क़यामत ख़ावर आ टूटे बदख़्शाँ पर
دل خونیں جگر بے صبر و فیض عشق مستغنی الٰہی یک قیامت خاور آ ٹوٹے بدخشاں پر
میرا خونیں جگر دل بے صبر ہے اور عشق کے فیض سے بے نیاز ہو گیا ہے۔ اے اللہ، بدخشاں پر مشرق سے ایک قیامت ٹوٹ پڑے!
10
'असद' ऐ बे-तहम्मुल अरबदा बे-जा है नासेह से कि आख़िर बे-कसों का ज़ोर चलता है गरेबाँ पर
اسدؔ اے بے تحمل عربدہ بیجا ہے ناصح سے کہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر
اسد، اے بے تحمل شخص، ناصح سے جھگڑنا بے جا ہے، کیونکہ آخر کار بے کس لوگ اپنی بے بسی میں صرف اپنے ہی گریباں پر زور چلا پاتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر | Sukhan AI