'असद' ऐ बे-तहम्मुल अरबदा बे-जा है नासेह से
कि आख़िर बे-कसों का ज़ोर चलता है गरेबाँ पर
“Asad, O restless soul, it's wrong to quarrel with the guide, For in the end, the helpless tear their own collar in their plight.”
— مرزا غالب
معنی
اسد، اے بے تحمل شخص، ناصح سے جھگڑنا بے جا ہے، کیونکہ آخر کار بے کس لوگ اپنی بے بسی میں صرف اپنے ہی گریباں پر زور چلا پاتے ہیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
← Prev10 / 10
