फ़ना तालीम-ए-दर्स-ए-बे-ख़ुदी हूँ उस ज़माने से
कि मजनूँ लाम अलिफ़ लिखता था दीवार-ए-दबिस्ताँ पर
“I am the instruction of self-oblivion, from an age so profound, When Majnun etched 'laam-alif' on the school's wall, lost to all around.”
— مرزا غالب
معنی
شاعر کہتا ہے کہ وہ بے خودی کی تعلیم کا مظہر ہے، اس قدیم زمانے سے جب مجنوں مدرسے کی دیوار پر 'لام الف' لکھنا سیکھ رہا تھا۔ یہ عشق یا روحانی جذب کی ایک انتہائی گہری اور لازوال کیفیت کو نمایاں کرتا ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
