दिल-ए-ख़ूनीं-जिगर बे-सब्र-ओ-फ़ैज़-ए-इश्क़-ए-मुस्तग़नी
इलाही यक क़यामत ख़ावर आ टूटे बदख़्शाँ पर
“My heart, blood-livered, impatient, from love's grace has grown quite free,O God, may a Doomsday from the East now strike Badakhshan's ruby-glee!”
— مرزا غالب
معنی
میرا خونیں جگر دل بے صبر ہے اور عشق کے فیض سے بے نیاز ہو گیا ہے۔ اے اللہ، بدخشاں پر مشرق سے ایک قیامت ٹوٹ پڑے!
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
