غزل

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: है

اس غزل میں غالب ستم رسیدہ اور غم زدہ انسانوں کے تنگ اور محدود جہان کی کیفیت بیان کرتے ہیں، جس میں وسیع آسمان بھی بیضۂ مور جتنا حقیر نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی وہ ذاتِ حق کے جلووں کا اعتراف کرتے ہیں کہ پوری کائنات کی حرکت اور ذرے ذرے کی زندگی اسی کے شوق اور پرتو کی مرہونِ منت ہے۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
क्या तंग हम सितम-ज़दगाँ का जहान है जिस में कि एक बैज़ा-ए-मोर आसमान है
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
ہم ستم رسیدہ لوگوں کی دنیا کس قدر تنگ اور محدود ہے کہ اس میں یہ وسیع آسمان بھی محض چیونٹی کے ایک انڈے کی مانند ہے۔
2
है काएनात को हरकत तेरे ज़ौक़ से परतव से आफ़्ताब के ज़र्रे में जान है
ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
پوری کائنات میں یہ حرکت تیری ہی چاہت اور ذوق کی وجہ سے ہے، بالکل ویسے ہی جیسے سورج کے عکس اور روشنی سے ایک ادنیٰ ذرے میں بھی جان پڑ جاتی ہے۔
3
हालाँकि है ये सीली-ए-ख़ारा से लाला रंग ग़ाफ़िल को मेरे शीशे पे मय का गुमान है
حالانکہ ہے یہ سیلی خارا سے لالہ رنگ غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
اگرچہ میرا شیشہ پتھر کی چوٹ سے لالہ کی طرح سرخ ہو گیا ہے، لیکن غافل انسان کو گمان ہے کہ اس میں شراب ہے۔
4
की उस ने गर्म सीना-ए-अहल-ए-हवस में जा आवे न क्यूँ पसंद कि ठंडा मकान है
کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
اس نے اہل ہوس کے سینے میں اپنا ٹھکانا بنا لیا؛ بھلا وہ جگہ اسے پسند کیوں نہ آتی، آخر وہ ایک ٹھنڈا مکان ہے۔
5
क्या ख़ूब तुम ने ग़ैर को बोसा नहीं दिया बस चुप रहो हमारे भी मुँह में ज़बान है
کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
آپ کتنی آسانی سے مکر رہے ہیں کہ آپ نے غیر کو بوسہ نہیں دیا؛ اب خاموش رہیں، ہمارے منہ میں بھی زبان ہے اور ہم بھی بول سکتے ہیں۔
6
बैठा है जो कि साया-ए-दीवार-ए-यार में फ़रमाँ-रवा-ए-किश्वर-ए-हिन्दुस्तान है
بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میں فرماں رواۓ کشور ہندوستان ہے
جو شخص محبوب کی دیوار کے سائے میں بیٹھا ہے، وہ دراصل پورے ملکِ ہندوستان کا حکمران ہے۔
7
हस्ती का ए'तिबार भी ग़म ने मिटा दिया किस से कहूँ कि दाग़ जिगर का निशान है
ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
غم نے میرے وجود کا بھروسا بھی مٹا دیا ہے، اب میں کس سے کہوں کہ یہ داغ میرے زخمی دل کی نشانی ہے۔
8
है बारे ए'तिमाद-ए-वफ़ा-दारी इस क़दर 'ग़ालिब' हम इस में ख़ुश हैं कि ना-मेहरबान है
ہے بارے اعتماد وفا داری اس قدر غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
ہماری وفاداری پر محبوب کو اس قدر بھروسا ہے کہ اے غالبؔ، ہم اسی بات میں خوش ہیں کہ وہ ہم پر نامہربان ہے۔
9
देहली के रहने वालो 'असद' को सताओ मत बे-चारा चंद रोज़ का याँ मेहमान है
دہلی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ مت بے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
اے دہلی کے رہنے والو، اسد کو مت ستاؤ؛ وہ بے چارہ یہاں بس چند دنوں کا مہمان ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.