“How cramped a realm belongs to us, the sorrow-stricken souls, where the entire sky is merely an ant's egg.”
ہم ستم رسیدہ لوگوں کی دنیا کس قدر تنگ اور محدود ہے کہ اس میں یہ وسیع آسمان بھی محض چیونٹی کے ایک انڈے کی مانند ہے۔
میر تقی میر نے اس شعر میں مظلوم اور رنجیدہ دلوں کی گھٹن کو ایک بے مثال استعارے میں ڈھالا ہے۔ وہ وسیع و عریض آسمان جسے وسعت اور آزادی کی علامت مانا جاتا ہے، غم زدہ انسان کے لیے چیونٹی کے انڈے کی طرح تنگ اور محدود نظر آتا ہے۔ یہ شعر درد کی اس شدت کو ظاہر کرتا ہے جہاں کائنات کی تمام تر وسعتیں بھی بے بس انسان کے لیے قید خانہ بن جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
