“Such absolute trust is reposed in my enduring fidelity; Ghalib, we rejoice that she remains unkind to me.”
ہماری وفاداری پر محبوب کو اس قدر بھروسا ہے کہ اے غالبؔ، ہم اسی بات میں خوش ہیں کہ وہ ہم پر نامہربان ہے۔
اس شعر میں غالب نے عشق کی ایک خوبصورت اور پرلطف ستم ظریفی بیان کی ہے۔ محبوب کو شاعر کی وفا پر اس قدر اندھا بھروسا ہے کہ وہ اس پر مہربانی کرنے کی زحمت ہی نہیں کرتا، کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ غالب کہیں جانے والا نہیں۔ غالب اس بے رخی میں بھی مسکرا دیتے ہیں، کیوں کہ یہ لاپروائی دراصل ان کے پختہ عشق پر محبوب کے کامل یقین کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
