“Grief has erased even the faith in my existence; to whom shall I say that this scar is the mark of my wounded heart?”
غم نے میرے وجود کا بھروسا بھی مٹا دیا ہے، اب میں کس سے کہوں کہ یہ داغ میرے زخمی دل کی نشانی ہے۔
شاعر غم کی اس انتہا کو بیان کر رہا ہے جہاں دکھ نے اس کے وجود کے ہونے کا یقین ہی مٹا دیا ہے۔ اس کے پاس اپنے درد کے ثبوت کے طور پر جگر کا ایک گہرا داغ تو موجود ہے، مگر تنہائی اتنی شدید ہے کہ وہ یہ بات کسے بتائے؟ جب دنیا کو اس کی ہستی کا ہی اعتبار نہ رہا، تو بھلا اس کے گھائل دل کے نشان کو کون تسلیم کرے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
