“She made herself at home within the breast of those by lust possessed; / Why would she not delight in it, when it's a cool place to rest?”
اس نے اہل ہوس کے سینے میں اپنا ٹھکانا بنا لیا؛ بھلا وہ جگہ اسے پسند کیوں نہ آتی، آخر وہ ایک ٹھنڈا مکان ہے۔
اس شعر میں شاعر نے سچے عشق اور ہوس کے فرق پر نہایت پُرلُطف اور گہرا طنز کیا ہے۔ روایتی شاعری میں سچے عاشق کا سینہ عشق کی پاکیزہ آگ سے دہکتا ہے، جب کہ ہوس پرستوں کا دل اس تڑپ اور سوز سے خالی ہوتا ہے۔ شاعر شوخی سے کہتا ہے کہ محبوب کو ہوس والوں کے دل میں بسنا کیوں نہ پسند آئے، کیونکہ جہاں سچے عشق کی جلن ہی نہ ہو، وہ دل تو آرام کرنے کے لیے ایک ٹھنڈا اور پُرسکون مکان بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
