“Though turned tulip-red by the strike of a stone, the heedless fool still presumes my glass holds wine.”
اگرچہ میرا شیشہ پتھر کی چوٹ سے لالہ کی طرح سرخ ہو گیا ہے، لیکن غافل انسان کو گمان ہے کہ اس میں شراب ہے۔
شاعر نے یہاں دل کے گہرے صدمے اور دنیا کی بے خبری کو کمال نزاکت سے بیان کیا ہے۔ دل کا نازک شیشہ گردشِ ایام اور سنگ باری کے تھپڑوں سے لہولہان ہو کر لالہ کی طرح سرخ ہو چکا ہے۔ لیکن ظاہربین اور غافل دنیا اس خون کے رنگ کو دیکھ کر سمجھتی ہے کہ جام میں سرخ شراب چھلک رہی ہے، یعنی انسان کا زخم اتنا گہرا ہے جسے لوگ بدقسمتی سے رونق اور خوشی پر محمول کر لیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
