“How grand! You claim you never gave the rival a kiss; enough, be silent—we too have a tongue in our mouth.”
آپ کتنی آسانی سے مکر رہے ہیں کہ آپ نے غیر کو بوسہ نہیں دیا؛ اب خاموش رہیں، ہمارے منہ میں بھی زبان ہے اور ہم بھی بول سکتے ہیں۔
اس شعر میں محبوب کے کھلے جھوٹ پر ایک تیکھا اور کاٹ دار طنز چھپا ہے۔ محبوب بڑی صفائی سے غیر کو بوسہ دینے سے مکر رہا ہے، مگر عاشق اس کی اس عیاری کو خوب سمجھتا ہے اور اسے چپ رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔ وہ نرمی مگر دو ٹوک انداز میں جتا رہا ہے کہ اس کی خاموشی بے خبری کی علامت نہیں ہے؛ اگر وہ بولنے پر آ گیا تو سچائی سب کے سامنے آ جائے گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
