“O residents of Delhi, torment Asad no more; the poor soul is a guest here for merely a few fleeting days.”
اے دہلی کے رہنے والو، اسد کو مت ستاؤ؛ وہ بے چارہ یہاں بس چند دنوں کا مہمان ہے۔
اس شعر میں غالبؔ اپنے ابتدائی تخلص 'اسدؔ' کے حوالے سے اہل دہلی سے بڑے دردمندانہ اور دھیمے لہجے میں مخاطب ہیں۔ وہ خود کو 'چند روز کا مہمان' کہہ کر نہ صرف اس شہر میں اپنی عارضی موجودگی کی بے بسی جتاتے ہیں، بلکہ انسانی زندگی کی ناپائیداری کا ملال بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اس میں کوئی غصہ یا تلخی نہیں، بلکہ ایک معصومانہ التجا ہے کہ جو مسافر جلد ہی رخصت ہونے والا ہو، اس کے ساتھ تھوڑی سی رعایت برتی جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
