غزل
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تُو کیا ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تُو کیا ہے
یہ غزل ایک سوال کرتی ہے کہ ہر بات پر لوگ پوچھتے ہیں کہ 'تو کیا ہے'۔ شاعر گفتگو کے انداز اور کسی کے دکھاوے پر سوال اٹھاتے ہیں، پوچھتے ہیں کہ یہ کس چیز کا کمال ہے۔ وہ مزید سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ محض حسد ہے، یا کسی اور چیز کا خوف ہے، اور آخر میں اپنے وجود اور ضرورت پر سوال کرتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हर एक बात पे कहते हो तुम कि तू क्या है
तुम्हीं कहो कि ये अंदाज़-ए-गुफ़्तुगू क्या है
ہر ایک بات پر تم کہتے ہو کہ تم کیا ہو، تم خود کہو کہ یہ اندازِ گفت وگو کیا ہے۔
2
न शोले में ये करिश्मा न बर्क़ में ये अदा
कोई बताओ कि वो शोख़-ए-तुंद-ख़ू क्या है
شولوں کے جادو میں نہ بجلی کی ادا میں، کوئی بتائے وہ سُکھی-تند-خو کیا ہے
3
ये रश्क है कि वो होता है हम-सुख़न तुम से
वगर्ना ख़ौफ़-ए-बद-आमोज़ी-ए-अदू क्या है
کیا یہ حسد ہے کہ آپ ہم سے بات کرتے ہیں، یا یہ دشمن سے سیکھنے کے خوف کے بارے میں ہے؟
4
चिपक रहा है बदन पर लहू से पैराहन
हमारे जैब को अब हाजत-ए-रफ़ू क्या है
جسم پر خون سے لپٹا کپڑا چپکا ہے، اب ہماری جیبوں کا کیا کام ہے؟
5
जला है जिस्म जहाँ दिल भी जल गया होगा
कुरेदते हो जो अब राख जुस्तुजू क्या है
جسم میں آگ لگی ہے، تو دل بھی جل گیا ہوگا؛ تم اب راکھ میں کیا تلاش کر رہے ہو؟
6
रगों में दौड़ते फिरने के हम नहीं क़ाइल
जब आँख ही से न टपका तो फिर लहू क्या है
ہم ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتے جو رگوں میں دوڑتی ہیں۔ اگر یہ آنکھ سے نہ ٹپکے، تو یہ خون کیا ہے؟
7
वो चीज़ जिस के लिए हम को हो बहिश्त अज़ीज़
सिवाए बादा-ए-गुलफ़ाम-ए-मुश्क-बू क्या है
وہ چیز جس کے لیے ہمیں جنت عزیز ہے، سواے بادۂ گُل فامے مُشک بو کیا ہے؟
8
पियूँ शराब अगर ख़ुम भी देख लूँ दो-चार
ये शीशा ओ क़दह ओ कूज़ा ओ सुबू क्या है
شاعر کہتا ہے کہ اگر میں شراب کا تھوڑا سا بھی نشہ دیکھ لوں، تو یہ شیشہ، یہ قدح، یہ کوزہ اور یہ سُبو کیا ہے।
9
रही न ताक़त-ए-गुफ़्तार और अगर हो भी
तो किस उमीद पे कहिए कि आरज़ू क्या है
گفتار کی طاقت باقی نہیں، اور اگر ہو بھی تو کس امید پر پوچھیں کہ آرزو کیا ہے؟
10
हुआ है शह का मुसाहिब फिरे है इतराता
वगर्ना शहर में ग़ालिब की आबरू क्या है
کسی نے شہ کی طرح برتاؤ کیا ہے اور اِتراتے ہوئے گھوم رہا ہے، ورنہ شہر میں شاعر کی کوئی آبرو کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
