जला है जिस्म जहाँ दिल भी जल गया होगा
कुरेदते हो जो अब राख जुस्तुजू क्या है
“The body is aflame, where the heart must also be burned; what do you seek now, digging through the ashes?”
— مرزا غالب
معنی
جسم میں آگ لگی ہے، تو دل بھی جل گیا ہوگا؛ تم اب راکھ میں کیا تلاش کر رہے ہو؟
تشریح
یہ شعر شدید درد اور مکمل تباہی کا اظہار ہے۔ اگر جسم جل چکا ہے، تو دل کا جلنا تو یقینی ہے۔ शायर پوچھتے ہیں کہ جب سب کچھ خاکستر ہو چکا ہے، تو اب آپ مزید کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟ یہ فنائیت اور قبولیت کا سبق ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
