Sukhan AI
غزل

فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر

فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر
مرزا غالب· Ghazal· 13 shers· radif: हनूज़

یہ غزل محبت کے درد کی دائمی نوعیت کو بیان کرتی ہے، جسے شاعر زندگی کے بعد بھی ایک زیور کی طرح عزیز رکھتا ہے۔ اپنے دل کی ویرانی اور محبوب کی مسلسل بے رخی کے باوجود، وہ اپنے پرانے عشق کے زخموں پر فخر محسوس کرتا ہے۔ یہ اشعار وفا کی کمی اور محبت میں اس کی کاوشوں کی بے ثمری کا ماتم کرتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
फ़ारिग़ मुझे न जान कि मानिंद-ए-सुब्ह-ओ-मेहर है दाग़-ए-'इश्क़ ज़ीनत-ए-जेब-ए-कफ़न हुनूज़
مجھے فارغ نہ جانو، کیونکہ صبح اور سورج کی طرح، عشق کا داغ ابھی بھی میرے کفن کی جیب کی زینت ہے۔
2
है नाज़-ए-मुफ़्लिसाँ ज़र-ए-अज़-दस्त-रफ़्ता पर हूँ गुल-फ़रोश-ए-शोख़ी-ए-दाग़-ए-कोहन हुनूज़
مفلس لوگ اپنے کھوئے ہوئے مال پر فخر کرتے ہیں۔ میں اب بھی اپنے پرانے زخموں کی شوخی (زندہ دلی) کو پیش کرتا ہوں۔
3
मै-ख़ाना-ए-जिगर में यहाँ ख़ाक भी नहीं ख़म्याज़ा खींचे है बुत-ए-बे-दाद-फ़न हुनूज़
یہاں دل کے میخانے میں خاک بھی نہیں بچی ہے۔ پھر بھی، وہ ظالم اور فنکار محبوب ابھی تک خمیازہ کھینچ رہا ہے۔
4
बेगाना-ए-वफ़ा है हवा-ए-चमन हुनूज़ 'वो' सब्ज़ा सँग पर न उगा कोहकन हुनूज़
چمن کی ہوا ابھی بھی وفا سے بیگانہ ہے۔ وہ سبزہ ابھی تک کوہکن کے لیے سنگ پر نہیں اگا ہے۔
5
या-रब यह दर्द-मंद है कस की निगाह का है रब्त-ए-मुश्क-ओ-दाग़-ए-स्वाद-ए-ख़ुतन हुनूज़
یا رب، یہ درد مند کس کی نگاہ کا ہے؟ کیا مُشک اور خُتن کے سیاہ داغ کا ربط ابھی بھی قائم ہے؟
6
जूँ जादा सर-ब-कू-ए-तमन्ना-ए-बे-दिली ज़ंजीर-ए-पा है रिश्ता-ए-हुब्बुल-वतन हुनूज़
ایک قیدی کی طرح، بے دلی کی تمناؤں کی گلی میں سر جھکائے ہوئے، وطن کی محبت کا رشتہ ابھی بھی پیروں کی زنجیر ہے۔
7
मैं दूर गर्द-ए-क़ुर्ब-ए-बिसात-ए-निगाह था बैरून-ए-दिल न थी तपिश-ए-अंजुमन हुनूज़
میں نگاہ کی وسیع بساط پر قربت کی دور کی دھول تھا۔ انجمن کی تپش ابھی تک میرے دل سے باہر نہیں نکلی تھی۔
8
मैं हूँ सराब-ए-यक-तपिश आमोख़्तन हुनूज़ ज़ख़्म-ए-जिगर है तिश्ना-ए-लब दोख़्तन हुनूज़
میں ایک ایسے سراب کی مانند ہوں جو کسی ایک تڑپ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اب بھی سیکھ رہا ہے۔ میرے جگر کا زخم ابھی بھی ایسے ہونٹوں کا پیاسا ہے جو اسے سی دیں۔
9
ऐ शो'ला फ़ुर्सते कि सवैदा-ए-दिल से हूँ किश्त-ए-सिपंद-ए-सद-जिगर अंदोख़्तन हुनूज़
اے شعلہ، مجھے کہاں کی فرصت ہے، کہ میں اپنے دل کے سَویدا سے ابھی سو جگروں کے اسپند کی فصل اکٹھی کروں۔
10
फ़ानूस-ए-शम्अ' है कफ़न-ए-कुश्तगान-ए-शौक़ दर-पर्दा है मु'आमला-ए-सोख़्तन हुनूज़
شوق کے مارے ہوئے لوگوں کا کفن شمع کا فانوس ہے۔ جلنے کا یہ معاملہ ابھی بھی پردے میں پوشیدہ ہے۔
11
मजनूँ फ़ुसून-ए-शो'ला-ख़िरामी फ़साना है है शम' जादा दाग़-ए-नेफ़रोख़्तन हुनूज़
مجنوں کی شعلہ جیسی چال کا جادو محض ایک فسانہ ہے۔ شمع پر ابھی تک نہ جلنے والے حصے کا داغ باقی ہے۔
12
कू यक शरर कि साज़-ए-चराग़ाँ करूँ 'असद' बज़्म-ए-तरब है पर्दगए सोख़्तन हुनूज़
اے اسد، کہاں ہے ایک چنگاری جس سے میں چراغ جلاؤں؟ خوشی کی محفل تو اب بھی جلے ہوئے پردے میں پوشیدہ ہے۔
13
था मुझ को ख़ार-ख़ार-ए-जुनून-ए-वफ़ा 'असद' सोज़न में था नहुफ़्ता गुल-ए-पैरहन हनूज़
اسد، مجھے وفاداری کا کانٹے دار جنون تھا؛ اُس وقت بھی لباس کا پھول ابھی تک سوئی میں ہی پوشیدہ تھا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر | Sukhan AI