मैं हूँ सराब-ए-यक-तपिश आमोख़्तन हुनूज़
ज़ख़्म-ए-जिगर है तिश्ना-ए-लब दोख़्तन हुनूज़
“I am a mirage of one burning zeal, still learning its own way,My heart's wound thirsts for lips to stitch, still craving till this day.”
— مرزا غالب
معنی
میں ایک ایسے سراب کی مانند ہوں جو کسی ایک تڑپ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اب بھی سیکھ رہا ہے۔ میرے جگر کا زخم ابھی بھی ایسے ہونٹوں کا پیاسا ہے جو اسے سی دیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
