غزل
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
یہ غزل پوشیدہ غم یا عشق کی آگ سے دل کے بے محابا جلنے کی شدید کیفیت کو بیان کرتی ہے، جہاں وصل کی چاہت اور محبوب کی یاد تک باقی نہیں رہی۔ شاعر کا کرب اتنا شدید ہے کہ وہ عدم سے بھی پرے ہے، اور اس کی ایک سوز آمیز آہ سے صحرا جل سکتا ہے۔ یہ مکمل جذباتی تباہی اور گہرے رنج کی ہلاکت خیز قوت کو اجاگر کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया
आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया
میرا دل پوشیدہ غم سے بے دھڑک جل گیا۔ گویا وہ ایک خاموش آگ کی مانند جل گیا ہو۔
2
दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं
आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया
دل میں وصل کی خواہش اور محبوب کی یاد تک باقی نہیں رہی۔ اس گھر میں ایسی آگ لگی کہ جو کچھ بھی تھا، سب جل کر راکھ ہو گیا۔
3
मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा
मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया
میں تو عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ، اے غافل، میری آتشیں آہ سے بالِ عنقا کئی بار جل گیا ہوتا۔
4
अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ
कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया
عرض کیجیے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں ہے؟ وحشت کا ایک خیال ہی آیا تھا کہ صحرا جل گیا۔
5
दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार
इस चराग़ाँ का करूँ क्या कार-फ़रमा जल गया
میں تجھے اپنا دل نہیں دکھاتا ورنہ تُو داغوں کی بہار دیکھتا۔ میں اس چراغاں کا کیا کروں جب اس کا کارفرما ہی جل گیا ہے؟
6
मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल
देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया
غالب، میں ہوں اور اب مجھے افسردگی کی آرزو ہے، کیونکہ اہلِ دنیا کے دکھاوے کی گرمجوشی کا انداز دیکھ کر میرا دل جل گیا۔
7
ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है
शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया
عاشقوں کا گھر ایک آتش باز کی دکان ہے۔ جب شعلہ رو محبوب تماشے کے لیے گرم ہوا تو سب کچھ جل گیا۔
8
ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल
दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया
اے خیال، میں کب تک صحبت کی گرمیوں کا افسوس کروں گا؟ میرا دل تمنا کے داغ کی آگ کے سوز سے جل گیا ہے۔
9
है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी
दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया
اے بےکسی! 'اسد' اداسی سے ناواقف ہے، لیکن میرا دل دنیا والوں کی دکھاوٹی گرم جوشی اور پرجوش انداز سے جل گیا۔
10
दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी
बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया
میرا دھواں سنبل کی خوبصورتی سے مقابلہ کر رہا ہے، کیونکہ میں آتشیں پھول کے شوق میں سر سے پاؤں تک پوری طرح جل گیا ہوں۔
11
शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर
ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया
شمع جیسے چہروں والی خوبصورت عورتوں کی مہندی لگی انگلیوں کو دیکھ کر، پھول کی کلی اپنے پر بکھیرتی ہوئی، پروانے کی طرح جل گئی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
