Sukhan AI
غزل

عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
مرزا غالب· Ghazal· 13 shers· radif: रहा

یہ غزل گہرے دکھ اور نایقینی کے احساس کو مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے، جہاں شاعر افسوس کرتا ہے کہ اس کا کبھی مغرور دل اب ٹوٹ چکا ہے، جس کے باعث وہ محبت کی التجا کرنے کے بھی قابل نہیں رہا۔ زندگی کی حسرتوں کے داغ لیے، وہ خود کو ایک بجھی ہوئی شمع سے تشبیہ دیتا ہے جو اب کسی محفل کے شایانِ شان نہیں رہی۔ یہ اشعار گہری اداسی، مایوسی اور ایک شدید ذاتی نقصان کا اظہار کرتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अर्ज़-ए-नियाज़-ए-इश्क़ के क़ाबिल नहीं रहा जिस दिल पे नाज़ था मुझे वो दिल नहीं रहा
میرا دل اب عشق کی عاجزانہ درخواست کے قابل نہیں رہا۔ جس دل پر مجھے ناز تھا، وہ دل اب ویسا نہیں رہا۔
2
जाता हूँ दाग़-ए-हसरत-ए-हस्ती लिए हुए हूँ शम-ए-कुश्ता दर-ख़ुर-ए-महफ़िल नहीं रहा
میں حسرتِ ہستی کا داغ لیے جا رہا ہوں۔ میں ایک بجھی ہوئی شمع ہوں، اب محفل کے قابل نہیں رہا۔
3
मरने की दिल और ही तदबीर कर कि मैं शायान-ए-दस्त-ओ-बाज़ु-ए-क़ातिल नहीं रहा
اے دل، مرنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کر، کیونکہ میں اب قاتل کے ہاتھ اور بازو کے لائق نہیں رہا ہوں۔
4
बर-रू-ए-शश-जहत दर-ए-आईना बाज़ है याँ इम्तियाज़-ए-नाक़िस-ओ-कामिल नहीं रहा
چھ جہتوں کے رخ پر آئینے کا دروازہ کھلا ہے۔ یہاں ناقص اور کامل کے درمیان کوئی امتیاز باقی نہیں رہا ہے۔
5
वा कर दिए हैं शौक़ ने बंद-ए-नक़ाब-ए-हुस्न ग़ैर-अज़-निगाह अब कोई हाइल नहीं रहा
شوق نے حسن کے نقاب کے بند کھول دیے ہیں۔ اب نگاہ کے سوا کوئی اور رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
6
गो मैं रहा रहीन-ए-सितम-हा-ए-रोज़गार लेकिन तिरे ख़याल से ग़ाफ़िल नहीं रहा
اگرچہ میں زمانے کے ظلموں کا قیدی رہا، لیکن میں تمہارے خیال سے غافل نہیں رہا۔
7
दिल से हवा-ए-किश्त-ए-वफ़ा मिट गई कि वाँ हासिल सिवाए हसरत-ए-हासिल नहीं रहा
دل سے وفا کے کھیت کی خواہش مٹ گئی ہے، کیونکہ وہاں حصول کے سوا حصول کی حسرت ہی باقی ہے۔
8
बेदाद-ए-इश्क़ से नहीं डरता मगर 'असद' जिस दिल पे नाज़ था मुझे वो दिल नहीं रहा
اسد، میں عشق کے ظلم سے نہیں ڈرتا، لیکن جس دل پر مجھے ناز تھا، وہ دل اب نہیں رہا۔
9
हर-चंद मैं हूँ तूती-ए-शीरीं-सुख़न वले आईना आह मेरे मुक़ाबिल नहीं रहा
اگرچہ میں شیریں سخن طوطی ہوں، لیکن افسوس، اب کوئی آئینہ میرے مقابل نہیں رہا۔
10
जाँ-दाद-गाँ का हौसला फ़ुर्सत-गुदाज़ है याँ अर्सा-ए-तपीदन-ए-बिस्मिल नहीं रहा
جان دینے والوں کا حوصلہ فرصت کو پگھلا دیتا ہے۔ یہاں اب ذبح کیے ہوئے (تڑپتے ہوئے) کے تڑپنے کا وقت نہیں رہا۔
11
हूँ क़तरा-ज़न ब-वादी-ए-हसरत शबाना रोज़ जुज़ तार-ए-अश्क जादा-ए-मंज़िल नहीं रहा
میں شب و روز حسرت کی وادی میں قطرہ زن (آنسو بہا رہا) ہوں۔ آنسوؤں کے دھاگے کے سوا منزل تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔
12
आह मेरी ख़ातिर-ए-वाबस्ता के सिवा दुनिया में कोई उक़्दा-ए-मुश्किल नहीं रहा
اے آہ! میری وابستہ خاطر کے علاوہ دنیا میں کوئی مشکل گتھی باقی نہیں رہی ہے۔
13
अंदाज़-ए-नाला याद हैं सब मुझ को पर 'असद' जिस दिल पे नाज़ था मुझे वो दिल नहीं रहा
مجھے آہ و فغاں کے تمام انداز یاد ہیں، اسد، لیکن جس دل پر مجھے ناز تھا، وہ دل اب باقی نہیں رہا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.