غزل
آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
یہ غزل نقصان، بے سودی، اور گہرے مایوسی کے موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ یہ اُن چیزوں کے اصل جوہر اور وقار پر سوال اٹھاتی ہے جو اپنے ماخذ یا سیاق و سباق سے کٹی ہوئی ہیں، جیسے کہ ایک پھول جو گلشن میں نہ ہو یا دامن کے بغیر گریبان۔ اشعار میں شاعر کی شدید جسمانی اور جذباتی تھکن کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے، جہاں مسلسل رونے سے ساری توانائی ختم ہو گئی ہے، اور زندگی کا جوہر رنگ کی طرح اڑ گیا ہے، صرف خالی پن باقی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
आबरू क्या ख़ाक उस गुल की कि गुलशन में नहीं
है गरेबाँ नंग-ए-पैराहन जो दामन में नहीं
آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
اس پھول کی کیا آبرُو، جو گُلشن میں نہیں؟ گریبان پوشاک کے لیے شرمندگی ہے اگر وہ دامن سے جڑا ہوا نہ ہو۔
2
ज़ोफ़ से ऐ गिर्या कुछ बाक़ी मिरे तन में नहीं
रंग हो कर उड़ गया जो ख़ूँ कि दामन में नहीं
ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
اے آنسو، کمزوری کے باعث میرے جسم میں کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ وہ خون جو دامن تک نہیں پہنچا (یعنی جو بہہ کر دامن کو داغدار نہ کر سکا)، رنگ (زردی) بن کر اُڑ گیا ہے۔
3
हो गए हैं जमा अजज़ा-ए-निगाह-ए-आफ़ताब
ज़र्रे उस के घर की दीवारों के रौज़न में नहीं
ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب
ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
سورج کی نظر کے ذرات (جو سورج کی روشنی میں دکھائی دیتے ہیں) جمع ہو گئے ہیں۔ پھر بھی، اس کے گھر کی دیواروں کے روزنوں میں کوئی ذرہ موجود نہیں ہے۔
4
रौनक़-ए-हस्ती है इश्क़-ए-ख़ाना वीराँ साज़ से
अंजुमन बे-शमा है गर बर्क़ ख़िर्मन में नहीं
رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
زندگی کی رونق اس عشق سے ہے جو گھر کو ویران کرتا ہے۔ محفل بے چراغ ہے اگر کھلیان میں بجلی نہ گرے۔
5
ज़ख़्म सिलवाने से मुझ पर चारा-जुई का है तान
ग़ैर समझा है कि लज़्ज़त ज़ख़्म-ए-सोज़न में नहीं
زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں
زخم سلوانے پر مجھ پر علاج ڈھونڈنے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ غیر نے سمجھا ہے کہ سوئی کے زخم (ٹانکے لگانے کے درد) میں کوئی لذت نہیں ہے۔
6
बस-कि हैं हम इक बहार-ए-नाज़ के मारे हुए
जल्वा-ए-गुल के सिवा गर्द अपने मदफ़न में नहीं
بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئے
جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
چونکہ ہم ایک ناز کی بہار کے ستائے ہوئے ہیں، ہمارے مدفن میں پھول کے جلوے کے سوا کوئی گرد نہیں ہے۔
7
क़तरा क़तरा इक हयूला है नए नासूर का
ख़ूँ भी ज़ौक़-ए-दर्द से फ़ारिग़ मिरे तन में नहीं
قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا
خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
ہر قطرہ ایک نئے ناسور کا خاکہ ہے۔ میرے جسم میں خون بھی درد کے لطف سے خالی نہیں ہے۔
8
ले गई साक़ी की नख़वत क़ुल्ज़ुम-आशामी मिरी
मौज-ए-मय की आज रग मीना की गर्दन में नहीं
لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری
موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
میری سمندر جیسی پینے کی صلاحیت ساقی کا غرور لے گئی ہے؛ آج شراب کی لہر شراب کی بوتل کی گردن کی رگ میں بھی نہیں ہے۔
9
हो फ़िशार-ए-ज़ोफ़ में क्या ना-तवानी की नुमूद
क़द के झुकने की भी गुंजाइश मिरे तन में नहीं
ہو فشار ضعف میں کیا ناتوانی کی نمود
قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
کمزوری کے شدید دباؤ میں مزید کس ناتوانی کا اظہار ہو سکتا ہے؟ میرے جسم میں میرے قد کے جھکنے کی بھی گنجائش نہیں بچی ہے۔
10
थी वतन में शान क्या 'ग़ालिब' कि हो ग़ुर्बत में क़द्र
बे-तकल्लुफ़ हूँ वो मुश्त-ए-ख़स कि गुलख़न में नहीं
تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر
بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں
وطن میں غالبؔ میری کیا شان تھی کہ پردیس میں مجھے عزت ملے؟ میں تو بے جھجک وہ مٹھی بھر تنکا ہوں جو بھٹی میں جلانے کے بھی کام کا نہیں۔
11
क्या कहूँ तारीकी-ए-ज़िन्दान-ए-ग़म अंधेर है
पुम्बा नूर-व-सुब्ह से कम जिस के रौज़न में नहीं
کیا کہوں تاریکی زندان غم اندھیر ہے
پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
غم کے قید خانے کی تاریکی کا کیا کہوں، یہ تو گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے! اس کے روشن دان میں پڑا روئی کا ٹکڑا بھی نور اور صبح سے کم نہیں چمکتا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
