غزل

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
داغ دہلوی· Ghazal· 9 shers· radif: भी नहीं

یہ غزل محبوب کی بے رخی، تغافل اور تضاد بھرے رویے پر عاشق کی بے بسی اور شکوے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں محبوب نہ وصل پر راضی ہے اور نہ ترکِ تعلق کا سبب واضح کرتا ہے۔ اس کا بنیادی تاثر حسرت، طنز اور ہجر کے کرب پر مبنی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
उज़्र आने में भी है और बुलाते भी नहीं बाइस-ए-तर्क-ए-मुलाक़ात बताते भी नहीं
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
انہیں خود آنے میں بھی عذر ہے اور وہ مجھے بلاتے بھی نہیں، اور نہ ہی ملاقاتیں ختم کرنے کی وجہ بتاتے ہیں۔
2
मुंतज़िर हैं दम-ए-रुख़्सत कि ये मर जाए तो जाएँ फिर ये एहसान कि हम छोड़ के जाते भी नहीं
منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
وہ میرے آخری وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ یہ مر جائے تو جائیں، اور پھر یہ احسان بھی جتاتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جاتے۔
3
सर उठाओ तो सही आँख मिलाओ तो सही नश्शा-ए-मय भी नहीं नींद के माते भी नहीं
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کم از کم اپنا سر تو اٹھاؤ اور نظریں تو ملاؤ؛ تم نہ تو شراب کے نشے میں ہو اور نہ ہی نیند سے مدہوش ہو۔
4
क्या कहा फिर तो कहो हम नहीं सुनते तेरी नहीं सुनते तो हम ऐसों को सुनाते भी नहीं
کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
تم نے کیا کہا؟ ذرا دوبارہ کہو کہ ہم تمہاری بات نہیں سنتے؟ اگر تم نہیں سنتے تو ہم بھی تم جیسوں کو اپنی بات نہیں سناتے ہیں۔
5
ख़ूब पर्दा है कि चिलमन से लगे बैठे हैं साफ़ छुपते भी नहीं सामने आते भी नहीं
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
یہ کیسا عجیب پردہ ہے کہ وہ چلمن سے لگ کر بیٹھے ہیں؛ نہ تو پوری طرح چھپتے ہیں اور نہ ہی سامنے آتے ہیں۔
6
मुझ से लाग़र तिरी आँखों में खटकते तो रहे तुझ से नाज़ुक मिरी नज़रों में समाते भी नहीं
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
مجھ جیسے کمزور اور لاغر لوگ تمہاری آنکھوں میں چبھتے تو رہے، لیکن تم جیسے نازک میری نظروں میں سما بھی نہیں پاتے۔
7
देखते ही मुझे महफ़िल में ये इरशाद हुआ कौन बैठा है उसे लोग उठाते भी नहीं
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
محفل میں مجھے دیکھتے ہی یہ حکم جاری ہوا کہ یہ کون بیٹھا ہے، لوگ اسے یہاں سے اٹھاتے کیوں نہیں۔
8
हो चुका क़त्अ तअ'ल्लुक़ तो जफ़ाएँ क्यूँ हों जिन को मतलब नहीं रहता वो सताते भी नहीं
ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
جب تعلق مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے تو پھر یہ ظلم و ستم کیوں ہے؟ جنہیں کسی سے کوئی غرض یا واسطہ نہیں رہتا، وہ ستاتے بھی نہیں۔
9
ज़ीस्त से तंग हो ऐ 'दाग़' तो जीते क्यूँ हो जान प्यारी भी नहीं जान से जाते भी नहीं
زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں
اے داغؔ! اگر تم زندگی سے اس قدر تنگ ہو تو پھر زندہ کیوں رہتے ہو؟ تمہیں اپنی جان عزیز بھی نہیں ہے اور تم جان سے جاتے بھی نہیں ہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں | Sukhan AI