“They wait for the parting breath, to leave once I have died; and yet confer this favor on me, claiming they never left my side.”
وہ میرے آخری وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ یہ مر جائے تو جائیں، اور پھر یہ احسان بھی جتاتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جاتے۔
اس شعر میں محبوب کے دکھاوے اور اس کی بے رخی پر ایک نہایت گہرا اور درد بھرا طنز ہے۔ محبوب دمِ رخصت عاشق کے سرہانے محض اس لیے بیٹھا ہے کہ اس کی جان نکلے اور وہ آزاد ہو سکے، مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ اس بے رحمانہ انتظار کو بھی احسان بنا کر جتا رہا ہے۔ یہ اس دکھ کی عکاسی ہے جہاں کسی کا پاس رہنا بھی محبت نہیں بلکہ دل کو چیر دینے والی لاپروائی بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
