ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

“Now that all ties are severed, why this cruelty still? / Those who care no longer do not even bother to torment.”

— داغ دہلوی
معنی

جب تعلق مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے تو پھر یہ ظلم و ستم کیوں ہے؟ جنہیں کسی سے کوئی غرض یا واسطہ نہیں رہتا، وہ ستاتے بھی نہیں۔

تشریح

اس شعر میں ایک بڑا ہی دل نشین اور گہرا طنز پوشیدہ ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اگر سارے رشتے ناتے واقعی ختم ہو چکے ہیں تو پھر یہ ستم اور جفائیں کیسی؟ سچی لاتعلقی تو مکمل بے پروائی اور خاموشی کا نام ہے، جبکہ کسی کو ستانا خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دل کے کسی گوشے میں اب بھی احساس کی ایک چنگاری باقی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.