“They make excuses not to visit, nor do they invite me near; the reason for ending our meetings, they never make it clear.”
انہیں خود آنے میں بھی عذر ہے اور وہ مجھے بلاتے بھی نہیں، اور نہ ہی ملاقاتیں ختم کرنے کی وجہ بتاتے ہیں۔
یہ شعر بے رخی اور بغیر کسی وجہ کے ختم ہوتے تعلق کی خاموش تکلیف کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ محبوب نہ تو خود ملنے آتا ہے اور نہ ہی ملنے کی اجازت دیتا ہے، بس بہانے بنا کر فاصلے بڑھا لیتا ہے۔ دوری کے دکھ سے بڑھ کر یہ بے رخی عاشق کو تڑپاتی ہے کہ تعلق توڑنے کا سبب تک نہیں بتایا جاتا، اور دل بس ان کہے سوالات کے بوجھ تلے گھٹتا رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
