“Lift your head at least, meet my eyes at least; you are neither drunk with wine, nor overcome by sleep.”
کم از کم اپنا سر تو اٹھاؤ اور نظریں تو ملاؤ؛ تم نہ تو شراب کے نشے میں ہو اور نہ ہی نیند سے مدہوش ہو۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب سے بڑی دل نشین محبت اور مان کے ساتھ التجا کر رہا ہے کہ ذرا نظریں اٹھا کر دیکھو تو سہی۔ وہ دھیمے انداز میں چھیڑتے ہوئے کہتا ہے کہ نہ تم پر مے کا خمار ہے اور نہ نیند کا غلبہ، پھر آنکھیں چرانے کا یہ کیا سبب ہے؟ دراصل، محبوب کی یہ جھکی ہوئی پلکیں بے رخی نہیں بلکہ اس کی دل کش حیا یا کسی میٹھے سے اعتراف کی علامت ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
