“"What did you say? Say it again—we will not listen to you!" / If you will not listen, then to such as you, we do not deign to speak!”
تم نے کیا کہا؟ ذرا دوبارہ کہو کہ ہم تمہاری بات نہیں سنتے؟ اگر تم نہیں سنتے تو ہم بھی تم جیسوں کو اپنی بات نہیں سناتے ہیں۔
یہ شعر محبوب اور عاشق کے درمیان انا، خودداری اور ناز و نخرے کی ایک لاجواب تصویر پیش کرتا ہے۔ محبوب جب اتراتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم تمہاری بات نہیں سنتے، تو عاشق بھی اپنی عزتِ نفس پر حرف نہیں آنے دیتا اور فوراً کہتا ہے کہ ہم بھی تم جیسے بے قدروں کو کچھ سنانے کے روادار نہیں۔ اس بظاہر تیکھی تکرار اور دوری کے پردے میں دراصل محبت کی گہری کشش اور ایک دوسرے کو آزمانے کی ادا چھپی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
