“If weary of life, O Dagh, then why do you live on? You hold not life dear, yet you do not depart.”
اے داغؔ! اگر تم زندگی سے اس قدر تنگ ہو تو پھر زندہ کیوں رہتے ہو؟ تمہیں اپنی جان عزیز بھی نہیں ہے اور تم جان سے جاتے بھی نہیں ہو۔
اس شعر میں داغؔ اپنے ہی دل سے ایک معصومانہ سوال کرتے ہیں، جو غمِ محبت میں الجھے ہر انسان کی کہانی ہے۔ وہ خود سے پوچھتے ہیں کہ اگر تم زندگی سے اس قدر تنگ آ چکے ہو اور یہ جان بھی پیاری نہیں رہی، تو پھر رخصت کیوں نہیں ہو جاتے؟ دراصل یہ دل کے اس تضاد کی تصویر ہے جہاں انسان درد سے بیزار تو ہوتا ہے، مگر اُمید کی کوئی نادیدہ ڈور اُسے جینے پر مجبور کیے رکھتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
