غزل

ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم

ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
داغ دہلوی· Ghazal· 10 shers· radif: किसी को क्या मालूम

یہ غزل پوشیدہ محبت کے کرب اور تقدیر کے نادیدہ فیصلوں کی عکاسی کرتی ہے۔ عاشق کو محبوب کے جواب کی نازک سی امید تو ہے، مگر قسمت کی بے یقینی اور دل کی مخفی حقیقت اسے گہری اداسی اور کشمکش میں مبتلا رکھتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
अभी हमारी मोहब्बत किसी को क्या मालूम किसी के दिल की हक़ीक़त किसी को क्या मालूम
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم
فی الحال ہماری محبت کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے، کیونکہ کسی دوسرے کے دل کی اصل حقیقت کوئی نہیں جان سکتا۔
2
यक़ीं तो ये है वो ख़त का जवाब लिक्खेंगे मगर नविश्ता-ए-क़िस्मत किसी को क्या मालूम
یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم
مجھے پورا یقین ہے کہ وہ میرے خط کا جواب ضرور لکھیں گے، لیکن قسمت کا لکھا کس کو معلوم ہے۔
3
ब-ज़ाहिर उन को हया-दार लोग समझे हैं हया में जो है शरारत किसी को क्या मालूम
بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم
ظاہری طور پر لوگ انہیں باحیا اور شرمیلا سمجھتے ہیں، لیکن اس حیا کے پردے میں کیا شرارت چھپی ہے یہ کسی کو معلوم نہیں۔
4
क़दम क़दम पे तुम्हारे हमारे दिल की तरह बसी हुई है क़यामत किसी को क्या मालूम
قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم
کسی کو کیا خبر کہ ہمارے دل کی طرح تمہارے ہر ہر قدم پر بھی ایک قیامت بسی ہوئی ہے۔
5
ये रंज ओ ऐश हुए हिज्र ओ वस्ल में हम को कहाँ है दोज़ख़ ओ जन्नत किसी को क्या मालूम
یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم
ہم نے جدائی میں دکھ اور ملن میں سکھ کا تجربہ کیا ہے؛ کسی کو کیا خبر کہ حقیقت میں دوزخ اور جنت کہاں ہیں۔
6
जो सख़्त बात सुने दिल तो टूट जाता है इस आईने की नज़ाकत किसी को क्या मालूम
جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم
دل جب کوئی سخت بات سنتا ہے تو ٹوٹ جاتا ہے، اس آئینے کی نزاکت کا بھلا کسے علم ہے۔
7
किया करें वो सुनाने को प्यार की बातें उन्हें है मुझ से अदावत किसी को क्या मालूम
کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم
وہ چاہے دوسروں کو سنانے کے لیے پیار کی باتیں کریں، مگر کسی کو کیا خبر کہ درحقیقت وہ مجھ سے دشمنی رکھتے ہیں۔
8
ख़ुदा करे न फँसे दाम-ए-इश्क़ में कोई उठाई है जो मुसीबत किसी को क्या मालूम
خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم
خدا کرے کہ کوئی کبھی محبت کے جال میں نہ پھنسے؛ میں نے اس میں جو دکھ اور مصیبت اٹھائی ہے، وہ کسی کو معلوم نہیں۔
9
अभी तो फ़ित्ने ही बरपा किए हैं आलम में उठाएँगे वो क़यामत किसी को क्या मालूम
ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں اٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم
ابھی تو انہوں نے دنیا میں صرف فتنے ہی برپا کیے ہیں، کسی کو کیا خبر کہ آگے چل کر وہ کیا قیامت کھڑی کریں گے۔
10
जनाब-ए-'दाग़' के मशरब को हम से तो पूछो छुपे हुए हैं ये हज़रत किसी को क्या मालूम
جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
جناب داغؔ کے طور طریقوں اور طبیعت کے بارے میں ہم سے پوچھیے؛ یہ حضرت سب سے چھپے ہوئے ہیں، کسی اور کو ان کی حقیقت کیا معلوم ہوگی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.