“At your every step, just like this heart of mine, a day of doom resides—who could ever divine?”
کسی کو کیا خبر کہ ہمارے دل کی طرح تمہارے ہر ہر قدم پر بھی ایک قیامت بسی ہوئی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی پروقار چال اور اپنے مضطرب دل کے مابین ایک دلکش مماثلت قائم کی ہے۔ محبوب کا اٹھنے والا ہر قدم جہاں اپنے حسن سے دنیا میں ایک قیامت برپا کرتا ہے، بالکل ویسی ہی قیامت عاشق کے سینے میں ارمانوں اور بےقراری کی صورت خاموشی سے بسی ہوئی ہے۔ دنیا اس اندرونی ہلچل اور بے پناہ جذبے سے بالکل بے خبر ہے، کیونکہ دل پر گزرنے والے اس حشر کا اندازہ کوئی دوسرا نہیں لگا سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
