“Outwardly, people deem them modest and demure; yet what mischief lies veiled in that modesty, who can know for sure?”
ظاہری طور پر لوگ انہیں باحیا اور شرمیلا سمجھتے ہیں، لیکن اس حیا کے پردے میں کیا شرارت چھپی ہے یہ کسی کو معلوم نہیں۔
دنیا محبوب کی جھکی ہوئی نگاہوں اور خاموشی کو فقط ان کی سادگی اور حیا سمجھتی ہے۔ مگر شاعر محبت کا ایک خوبصورت راز کھولتے ہوئے بتاتا ہے کہ اس شرمیلے پن کی آڑ میں جو شوخی اور دلکش شرارت چھپی ہے، اس کا اندازہ صرف عاشق ہی لگا سکتا ہے۔ یہ شعر حیا اور شوخی کے دل موہ لینے والے امتزاج کو بڑی نزاکت سے پیش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
