“Ask of us the creed and ways of master 'Dagh' / Veiled is this gentleman's true self, what would another know?”
جناب داغؔ کے طور طریقوں اور طبیعت کے بارے میں ہم سے پوچھیے؛ یہ حضرت سب سے چھپے ہوئے ہیں، کسی اور کو ان کی حقیقت کیا معلوم ہوگی۔
اس شعر میں داغؔ دہلوی کی روایتی شوخی اور دلکش بزلہ سنجی کھل کر سامنے آتی ہے۔ لفظ 'مشرب' سے مراد باطنی مسلک، رِندانہ انداز یا اصل مزاج ہے، جس کے بارے میں شاعر بڑے رازدارانہ انداز میں چٹکی لے رہا ہے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ دنیا کے سامنے داغؔ خواہ کتنے ہی پارسا اور باوقار بنیں، ان کی اصل شوخ اور عاشقانہ فطرت کو صرف ہم ہی جانتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
