“She may utter tender words of love for the world to hear; that she harbors bitter enmity toward me, who could ever know?”
وہ چاہے دوسروں کو سنانے کے لیے پیار کی باتیں کریں، مگر کسی کو کیا خبر کہ درحقیقت وہ مجھ سے دشمنی رکھتے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے محبت کے ایک بے حد تلخ اور منافقانہ روپ کو سامنے لایا ہے، جہاں محبوب زمانے کو دکھانے کے لیے تو شہد بھری باتیں کرتا ہے مگر اندر سے عداوت پالے بیٹھا ہے۔ دنیا ظاہر کی اس دلفریب مٹھاس کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتی ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی سرد مہری اور نفرت صرف عاشق کے دل پر وار کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش دکھ ہے جس کی گواہی خود عاشق کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
