خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم

“May God grant that none be caught in love's treacherous snare; the torment I have endured, how could anyone ever know?”

— داغ دہلوی
معنی

خدا کرے کہ کوئی کبھی محبت کے جال میں نہ پھنسے؛ میں نے اس میں جو دکھ اور مصیبت اٹھائی ہے، وہ کسی کو معلوم نہیں۔

تشریح

شاعر یہاں عشق کو ایک شکاری کے جال یعنی ’دامِ عشق‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے دعا گو ہے کہ کوئی اور اس عذاب میں نہ پھنسے۔ یہ دعا دراصل ایک گہرے ذاتی صدمے اور تلخ تجربے کا نچوڑ ہے، جس کی شدت کا اندازہ کوئی دوسرا نہیں لگا سکتا۔ اس شعر میں دل کا وہ تنہا کر دینے والا درد چھلکتا ہے جسے انسان دنیا سے چھپا کر اکیلے ہی جھیلنے پر مجبور ہوتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.