“As yet, they have only stirred mild turmoils across the world; who knows what apocalypse they shall yet summon forth?”
ابھی تو انہوں نے دنیا میں صرف فتنے ہی برپا کیے ہیں، کسی کو کیا خبر کہ آگے چل کر وہ کیا قیامت کھڑی کریں گے۔
اس شعر میں محبوب کے حسن اور اس کی دلربا شوخیوں کے سحر انگیز اثر کو بڑی خوبصورتی اور شوخی سے بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ابھی تو محبوب کی محض ہلکی سی اداؤں نے ہی زمانے بھر میں ہلچل اور فتنے مچا رکھے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ جب وہ اپنے پورے جاہ و جلال اور جلووں کے ساتھ سامنے آئیں گے تو کیسی قیامت ٹوٹے گی، اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
