یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم

“These griefs and pleasures we experienced in parting and embrace; who truly knows where hell and heaven have their place?”

— داغ دہلوی
معنی

ہم نے جدائی میں دکھ اور ملن میں سکھ کا تجربہ کیا ہے؛ کسی کو کیا خبر کہ حقیقت میں دوزخ اور جنت کہاں ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے جنت اور دوزخ کے روایتی تصور کو بڑی خوبصورتی سے انسانی جذبات کے آئینے میں پیش کیا ہے۔ محبوب کی جدائی کا رنج کسی جہنم سے کم نہیں ہوتا، اور اس کے وصل کی خوشی ہی دراصل سچی جنت ہے۔ شاعر بڑے دلکش انداز میں کہتا ہے کہ بعد کی دنیا کس نے دیکھی ہے، ہم نے تو عشق کی کیفیتوں میں ہی دوزخ اور جنت کا مزہ چکھ لیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.