غزل

تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے

تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: और है

یہ غزل عشق کی تپش، جنون اور اس کے انوکھے درد کی عکاسی کرتی ہے جس کا علاج عقل و دانش کے پیمانوں میں ممکن نہیں۔ شاعر نے واضح کیا ہے کہ تفتہ جاں عاشقوں کا سوز اور ان کی وحشت دنیوی فہم اور تدبیروں سے ماورا ایک خاص حقیقت ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
तुफ़्ता-जानों का इलाज ऐ अहल-ए-दानिश और है इश्क़ की आतिश बला है उस की सोज़िश और है
تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے عشق کی آتش بلا ہے اس کی سوزش اور ہے
اے عقل مندو! عشق میں جلی ہوئی روحوں کا علاج کچھ اور ہی ہے، کیونکہ عشق کی آگ ایک مصیبت ہے اور اس کی جلن بالکل الگ ہے۔
2
क्यूँ न वहशत में चुभे हर मू ब-शक्ल-ए-नीश-तेज़ ख़ार-ए-ग़म की तेरे दीवाने की काविश और है
کیوں نہ وحشت میں چبھے ہر مو بشکل نیش تیز خار غم کی تیرے دیوانے کی کاوش اور ہے
وحشت کے عالم میں جسم کا ہر بال تیز ڈنک کی طرح کیوں نہ چبھے؟ تیرے دیوانے کے اندر غم کے کانٹے کی چبھن اور خلش تو بالکل الگ ہی قسم کی ہے۔
3
मुतरिबो बा-साज़ आओ तुम हमारी बज़्म में साज़-ओ-सामाँ से तुम्हारी इतनी साज़िश और है
مطربو باساز آؤ تم ہماری بزم میں ساز و ساماں سے تمہاری اتنی سازش اور ہے
اے مطربو! تم ہماری محفل میں ساز لے کر آؤ؛ تمہارے ساز و سامان کے ذریعے یہ تمہاری ایک اور سازش ہے۔
4
थूकता भी दुख़्तर-ए-रज़ पर नहीं मस्त-ए-अलस्त जो कि है उस फ़ाहिशा पर ग़श वो फ़ाहिश और है
تھوکتا بھی دختر رز پر نہیں مست الست جو کہ ہے اس فاحشہ پر غش وہ فاحش اور ہے
روزِ ازل کی مے سے سرشار شخص شراب (انگور کی بیٹی) پر تھوکتا بھی نہیں ہے؛ جو اس بدکار عورت پر مر مٹتا ہے، وہ کوئی دوسرا ہی عیاش ہے۔
5
ताब क्या हम-ताब होवे उस से ख़ुर्शीद-ए-फ़लक आफ़्ताब-ए-दाग़-ए-दिल की अपने ताबिश और है
تاب کیا ہمتاب ہووے اس سے خورشید فلک آفتاب داغ دل کی اپنے تابش اور ہے
آسمان کے سورج میں یہ مجال کہاں کہ وہ اس کی برابری کر سکے۔ میرے دل کے داغ کے آفتاب کی چمک اور تپش ہی بالکل الگ اور بے مثال ہے۔
6
सब मिटा दें दिल से हैं जितनी कि उस में ख़्वाहिशें गर हमें मालूम हो कुछ उस की ख़्वाहिश और है
سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے
اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ محبوب کی چاہت کچھ اور ہے، تو ہم اپنے دل کی تمام خواہشیں مٹا ڈالیں۔
7
अब्र मत हम-चश्म होना चश्म-ए-दरिया-बार से तेरी बारिश और है और उस की बारिश और है
ابر مت ہم چشم ہونا چشم دریا بار سے تیری بارش اور ہے اور اس کی بارش اور ہے
اے بادل، دریا کی طرح آنسو بہانے والی آنکھ کی برابری مت کر؛ تیری بارش کچھ اور ہے اور اس آنکھ کے رونے کی بارش کچھ اور ہے۔
8
है तो गर्दिश चर्ख़ की भी फ़ित्ना-अंगेज़ी में ताक़ तेरी चश्म-ए-फ़ित्ना-ज़ा की लेक गर्दिश और है
ہے تو گردش چرخ کی بھی فتنہ انگیزی میں طاق تیری چشم فتنہ زا کی لیک گردش اور ہے
اگرچہ آسمان کا چکر بھی فتنہ و فساد برپا کرنے میں ماہر ہے، لیکن تیری فتنہ پیدا کرنے والی آنکھوں کی جنبش کا اثر بالکل ہی الگ ہے۔
9
बुत-परस्ती जिस से होवे हक़-परस्ती ऐ 'ज़फ़र' क्या कहूँ तुझ से कि वो तर्ज़-ए-परस्तिश और है
بت پرستی جس سے ہووے حق پرستی اے ظفرؔ کیا کہوں تجھ سے کہ وہ طرز پرستش اور ہے
اے ظفر، میں تم سے کیا کہوں کہ بندگی کا وہ طریقہ بالکل ہی الگ ہے جس کے ذریعے بت پرستی بھی حق پرستی میں بدل جاتی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.