“True, the heavens' turning wheel is adept at brewing strife; yet the roving of your mischief-breeding eye is something else entirely.”
اگرچہ آسمان کا چکر بھی فتنہ و فساد برپا کرنے میں ماہر ہے، لیکن تیری فتنہ پیدا کرنے والی آنکھوں کی جنبش کا اثر بالکل ہی الگ ہے۔
اردو شاعری میں دنیا کے سارے دکھ اور ہلچل ہمیشہ گردشِ دوراں یا آسمان کے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں۔ شاعر مسکرا کر اعتراف کرتا ہے کہ بلاشبہ آسمان فتنہ جگانے اور بربادیاں لانے میں بےحد ماہر ہے، مگر ساتھ ہی کہتا ہے کہ محبوب کی چنچل نگاہ کی جنبش کا تو کوئی ثانی ہی نہیں۔ گردشِ فلک تو صرف حالات بدلتی ہے، لیکن محبوب کی ایک فتنہ گر اور شوخ نظر دل کی دنیا کو جس شیریں قیامت سے دوچار کرتی ہے، اس کا مقابلہ کوئی قسمت نہیں کر سکتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
