“O cloud, dare not to rival this river-shedding eye; your rain is of one kind, and its downpour quite another.”
اے بادل، دریا کی طرح آنسو بہانے والی آنکھ کی برابری مت کر؛ تیری بارش کچھ اور ہے اور اس آنکھ کے رونے کی بارش کچھ اور ہے۔
شاعر بادل کو خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اشکبار آنکھوں سے برابری کا مقابلہ کرنے کی کوشش مت کرنا۔ بادل کی بارش تو محض موسم کا پانی ہے جو برس کر تھم جاتا ہے، جبکہ ان آنکھوں سے دل کے درد اور غمِ ہجراں کا ایک نہ رکنے والا دریا بہتا ہے۔ اس شعر میں انسانی دل کی کیفیات اور تڑپ کو قدرت کے طوفانوں پر بھی فوقیت دی گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
