“Musicians, enter our gathering equipped with melody and lute; Through your instruments and gear, yet another conspiracy takes root.”
اے مطربو! تم ہماری محفل میں ساز لے کر آؤ؛ تمہارے ساز و سامان کے ذریعے یہ تمہاری ایک اور سازش ہے۔
شاعر یہاں مطربوں کو اپنی محفل میں ساز کے ساتھ مدعو کرتے ہوئے ’ساز‘، ’ساز و ساماں‘ اور ’سازش‘ کے درمیاں ایک لاجواب لفظی مناسبت قائم کرتا ہے۔ وہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ نغمہ نگار صرف تفریح کے لیے نہیں آ رہے، بلکہ ان کی دھنیں دل کے پرانے زخموں کو پھر سے چھیڑنے کی ایک خوبصورت سازش ہیں۔ یہ شعر بظاہر رونقِ محفل کا بیان ہے، مگر درحقیقت اس کے پردے میں دل کا سکون لٹنے کا ایک میٹھا سا شکوہ چھپا ہوا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
