غزل

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: फिर वैसी ही

اس غزل میں شاعر نے روایتی سراپا نگاری کے انداز میں محبوب کے حسن و جمال، زلفوں کی دلکش مہک اور قاتلانہ اداؤں کی پرتاثیر تصویر کشی کی ہے۔ کلام کا مجموعی تاثر محبوب کے سحر انگیز حسن کی تعریف اور اس کے والہانہ تاثرات پر مبنی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
शमशीर-ए-बरहना माँग ग़ज़ब बालों की महक फिर वैसी ही जूड़े की गुंधावट क़हर-ए-ख़ुदा बालों की महक फिर वैसी ही
شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی جوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
ننگی تلوار جیسی مانگ غضب ڈھا رہی ہے اور بالوں کی خوشبو پھر بھی ویسی ہی ہے؛ جوڑے کی بناوٹ قیامت خیز ہے، مگر بالوں کی مہک اب بھی ویسی کی ویسی ہے۔
2
आँखें हैं कटोरा सी वो सितम गर्दन है सुराही-दार ग़ज़ब और उसी में शराब-ए-सुर्ख़ी-ए-पाँ रखती है झलक फिर वैसी ही
آنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضب اور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی
محبوب کی آنکھیں کٹورے جیسی غضب ناک ہیں اور گردن صراحی کی مانند خوبصورت ہے، جس میں پان کی سرخی شراب کی طرح جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے۔
3
हर बात में उस की गर्मी है हर नाज़ में उस के शोख़ी है क़ामत है क़यामत चाल परी चलने में फड़क फिर वैसी ही
ہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہے قامت ہے قیامت چال پری چلنے میں پھڑک پھر ویسی ہی
اس کی ہر بات میں حرارت اور ہر ناز و انداز میں شوخی ہے۔ اس کا قد قیامت خیز اور چال پری جیسی ہے، اور اس کی رفتار میں اب بھی وہی خاص پھڑک اور چنچلاہٹ باقی ہے۔
4
गर रंग भबूका आतिश है और बीनी शोला-ए-सरकश है तो बिजली सी कौंदे है परी आरिज़ की चमक फिर वैसी ही
گر رنگ بھبوکا آتش ہے اور بینی شعلۂ سرکش ہے تو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی
اگر محبوب کا رنگ دہکتی ہوئی آگ جیسا اور ناک کسی سرکش شعلے کی طرح ہے، تو یہ پری بجلی کی طرح چمکتی ہے اور اس کے گالوں کی چمک بھی ویسی ہی برقرار ہے۔
5
नौ-ख़ेज़ कुचें दो ग़ुंचा हैं है नर्म शिकम इक ख़िर्मन-ए-गुल बारीक कमर जो शाख़-ए-गुल रखती है लचक फिर वैसी ही
نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں ہے نرم شکم اک خرمن گل باریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی
محبوب کا نیا ابھار دو کلیوں جیسا ہے اور اس کا نرم پیٹ پھولوں کا ڈھیر ہے؛ اس کی پتلی کمر پھول کی شاخ کی مانند بالکل ویسی ہی لچک رکھتی ہے۔
6
है नाफ़ कोई गिर्दाब-ए-बला और गोल सुरीं रानें हैं सफ़ा है साक़ बिलोरीं शम-ए-ज़िया पाँव की कफ़क फिर वैसी ही
ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سریں رانیں ہیں صفا ہے ساق بلوریں شمع ضیا پاؤں کی کفک پھر ویسی ہی
محبوب کی ناف مصیبت کا بھنور ہے، کولہے گول اور رانیں صاف و شفاف ہیں؛ بلور جیسی پنڈلیاں روشن شمع کی مانند ہیں اور پاؤں کے تلوے بھی ویسے ہی خوبصورت ہیں۔
7
महरम है हबाब-ए-आब-ए-रवाँ सूरज की किरन है उस पे लिपट जाली की कुर्ती है वो बला गोटे की धनक फिर वैसी ही
محرم ہے حباب آب رواں سورج کی کرن ہے اس پہ لپٹ جالی کی کرتی ہے وہ بلا گوٹے کی دھنک پھر ویسی ہی
اندر کی محرم (چولی) بہتے پانی کے بلبلے جیسی ہے جس پر سورج کی کرن لپٹی ہو، اور اس پر پہنی جالی دار کرتی قیامت خیز ہے جس کے گوٹے کا کام دھنک کی طرح سجا ہے۔
8
वो गाए तो आफ़त लाए है हर ताल में लेवे जान निकाल नाच उस का उठाए सौ फ़ित्ने घुँगरू की झनक फिर वैसी ही
وہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکال ناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی
جب وہ گاتی ہے تو قیامت برپا کر دیتی ہے اور ہر تال پر جان نکال لیتی ہے؛ اس کا ناچنا سینکڑوں فتنے جگاتا ہے اور اس کے گھنگھرو کی جھنکار بھی ویسی ہی اثر انگیز ہے۔
9
हर बात पे हम से वो जो 'ज़फ़र' करता है लगावट मुद्दत से और उस की चाहत रखते हैं हम आज तलक फिर वैसी ही
ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفرؔ کرتا ہے لگاوٹ مدت سے اور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی
اے ظفر! وہ جو ایک طویل عرصے سے ہر بات پر ہم سے لگاوٹ برتتا رہا ہے، ہم آج بھی اس سے ویسی ہی چاہت رکھتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.