“A vortex of peril is the navel, round are the hips, and smooth the thighs so clear; / Crystal shins like radiant candles, and the soles of the feet just as rare.”
محبوب کی ناف مصیبت کا بھنور ہے، کولہے گول اور رانیں صاف و شفاف ہیں؛ بلور جیسی پنڈلیاں روشن شمع کی مانند ہیں اور پاؤں کے تلوے بھی ویسے ہی خوبصورت ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے کلاسیکی 'سراپا نگاری' کی روایت نبھاتے ہوئے محبوب کے جسمانی حسن اور اس کی دلکشی کو بڑے نفیس انداز میں پیش کیا ہے۔ ناف کو بلا کا گرداب کہا گیا ہے جو عاشق کو اپنی کشش میں غرق کر لیتا ہے، جبکہ پنڈلیوں اور پاؤں کی نزاکت کو شمع کی ضیا اور بلور کی شفافیت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ شعر محبوب کے دلربا جمال اور اس کے سراسر سحر انگیز وجود کا اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
