وہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکال ناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی

“When she sings, calamity descends, draining the soul at every beat; Her dance stirs up a hundred storms, while the chime of her bells stays ever sweet.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

جب وہ گاتی ہے تو قیامت برپا کر دیتی ہے اور ہر تال پر جان نکال لیتی ہے؛ اس کا ناچنا سینکڑوں فتنے جگاتا ہے اور اس کے گھنگھرو کی جھنکار بھی ویسی ہی اثر انگیز ہے۔

تشریح

شاعر اس شعر میں محبوب کے گانے اور رقص کے دلکش اور پُراثر سحر کو بیان کر رہا ہے۔ اس کی آواز اور سر کی ہر تال ایسی جان لیوا ہے کہ سننے والے کے ہوش اڑا دیتی ہے، جبکہ اس کی اداؤں بھرا ناچ محفل میں قیامت برپا کر دیتا ہے۔ ان تمام فتنوں اور ہنگاموں کے بیچ اس کے گھنگھروؤں کی مدھر اور مسلسل جھنکار عاشق کو مسحور کیے رکھتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.